بنگلورو،2/جنوری(ایس او نیوز) ریاستی حکومت نے ایک خوش آئندقدم اٹھاتے ہوئے یہ سرکلر جاری کیا ہے کہ ریاست بھر کے تعلیمی اداروں میں صبح کے وقت اسمبلی میں ہندوستان کے آئین کی تمہید لازمی طور پرپڑھی جائے۔ ریاستی محکمہ تعلیمات کی طرف سے جاری ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ہر صبح ریاست کے ہر اسکول میں اسمبلی کے فوراً بعد ہندوستان کے آئین کی تمہید پڑھی جائے اور اس موقع پر شریک تمام اساتذہ اور طلباء اس کے تئیں پابند رہنے کا عہد بھی کریں۔
محکمہ نے سرکلر میں کہا ہے کہ ہر اسکول میں اس علاقے میں موجود آئین کے ماہر کو مدعو کرکے اس ملک کے آئین کی اہمیت کے بارے میں معلومات سے طلباء اور اساتذہ کو آگاہ کروایا جائے۔ محکمہ تعلیمات نے کہا ہے کہ اس سے پہلے 28اکتوبر 2019کویوم آئین کے موقع پر آئین بیداری مہم کے سلسلے میں سی ایم سی اے نامی ادارے کی طرف سے جو کتابچہ جاری کیا گیا تھا اس پر کئی حلقوں سے اعتراضات کئے گئے کیونکہ اس میں آئین کے معمار ڈاکٹر امبیڈکر کی تصویر ہٹاکر آر ایس ایس اور جن سنگھ کے بانیوں میں شامل کرکے شیاما پرساد مکھر جی کی تصویر شائع کی گئی تھی۔
محکمہ تعلیمات عامہ نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام کتابچوں کو ختم کردیا جائے اور اس کی اشاعت کے لئے ذمہ دار ادارے سی ایم سی اے کو بلیک لسٹ کیا جائے۔ تعلیمی اداروں سے کہا گیا ہے کہ آئین یا کسی بھی موضوع پر اس ادارے کے اشتراک سے کوئی پروگرام منظم نہ کیا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ 19دسمبر کو وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی صدارت میں منعقدہ ریاستی آئین تحفظ کمیٹی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ملک کے آئین کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لئے ایسا سرکلر جاری کیا جائے کہ ریاست کے تمام تعلیمی اداروں پر یہ پابندی لگائی جائے کہ ہر روز دعائیہ کے بعد آئین کی تمہید لازمی طور پر پڑھی جائے۔بتایا گیا ہے کہ محکمہ تعلیمات عامہ کی طرف سے جاری اس سرکلر میں واضح طور پر تمام ڈی ڈی پی آئی، بی ای او،اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ سے کہا گیا ہے کہ اس سرکلر کی سختی سے پابندی کی جائے۔ لاپروائی کی صورت میں کارروائی کی تنبیہ کی گئی ہے-